ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جانوروں کو ذبح کے لئے فروخت کرنے پر پابندی کے خلاف ایس ڈی پی آئی کا احتجاج

جانوروں کو ذبح کے لئے فروخت کرنے پر پابندی کے خلاف ایس ڈی پی آئی کا احتجاج

Thu, 01 Jun 2017 13:54:23    S.O. News Service

منگلورویکم جون (ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے مویشی بازار میں جانوروں کو ذبح کرنے کے لئے فروخت کرنے پر جو ملک گیر پابندی لگائی گئی ہے، اور تلنگانہ میں فاطمہ چرچ پر شرپسندوں نے جو حملہ کیا ہے اس کے خلاف سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیاکی طر ف سے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

احتجاج کے دوران نے مقررین نے مویشی بازار میں مذبح کے لئے جانوروں کی فروخت پر پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مرکزی حکومت اور فاشسٹ طاقتوں کی دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف ایک درپردہ جنگ قرار دیا۔اس قانون کو اقتصادی اعتبار سے بھی گوشت اور چمڑے کے کاروبار سے متعلقہ ایک لاکھ کروڑ روپے کی تجارت کے لئے نقصان دہ بتایا۔اور کہا کہ مرکزی حکومت نے یہ جو بے وقوفی والا قدم اٹھایاہے اس سے کسانوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔اس کے علاو ہ گزشتہ 70سال سے ڈیری فارمنگ میں جو قدم بہ قدم ترقی ہوئی ہے اب وہ بھی ختم ہوجائے گی۔مقررین نے یہ سوال بھی پوچھا کہ کسان اپنے پاس موجود بے کار اور بے فائدہ جانور اگر قصائی خانوں کو فروخت نہ کرے تو پھر کیا کرے ۔ کیا اسے وزیر اعظم کے دفترpmoمیں بھیج دیا جائے!

احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کا یہ قانون ایک عوام دشمن،کسان دشمن اور جمہوریت مخالف قانون ہے۔اورپورے دیش کو سبزی خوربنانے کے آر ایس ایس کے خفیہ ایجنڈے کا حصہ ہے، اور خاص کر مسلمانوں کے مذہبی تہوار بقرعید کے موقع پر قربانی روکنے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔یہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کی جانب سے عوام پر زور زبردستی والا معاملہ ہے۔ اس لئے صدر ہند کو اس مداخلت کرتے ہوئے اس عوام دشمن قانون کو رد کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو آمادہ کرنا ہوگا۔

اس احتجاجی جلسے کی صدارت ایس ڈی پی آئی کے ضلعی صدر حنیف خان کوڈاجے نے کی۔مقررین میں الیاس احمد تومبے(نیشنل جنرل سکریٹری) ، عبدالحنان (ریاستی صدر)،الفانسو فرانکو(ریاستی سکریٹری)، ستیشن سالیان،جلیل کرشنا پور،علی حسن ، رگھو ویر سوپرپیٹ(دلت لیڈر) وغیرہ شامل تھے۔اس کے علاوہ ایس ڈی پی آئی کے عہدیداران، رضاکار اور دیگر سماجی شخصیات کی بڑی تعداد اس موقع پر حاضر تھی۔

Mangaluru_SDPI_protest_31_2.jpg


Share: